News Massive...Egypt & Syria Solidarity March by Jamaat e Islami in Karachi, shame on Media!

Discussion in 'Current Affair and Siasi Debate' started by R4BIAN, Sep 8, 2013.

  1. benice

    benice Well-Known Member Siasi Karkun

    Joined:
    Jan 2, 2010
    Messages:
    6,564
    Likes Received:
    41
    Location:
    Karachi

    اس بحث کو چھوڑ کر کہ اخوان مسلمان ہیں یا نہیں۔ یا اللہ کے احکام کی مکمل بجا آوری کر رہے ہیں یا نہیں۔
    سوال یہ تھا کہ اس مہذب مغربی جمہوریت کے تحت ایک منتخب نمائندے کو کیسے روکا گیا؟
    آخر افلاطون نے تسلیم کر لیا کہ اس کی مہذب دنیا نے اپنے ہی قانون کو بالائے طاق رکھ کر صرف مذہبی کھنس کی خاطر مکو ٹھپ دیا۔
    کبھی کبھی اسلام دشمنی میں اصلی بات اس افلاطون کے منہ سے نکل جاتی ہے۔

     
  2. moazzamniaz

    moazzamniaz New Member

    Joined:
    Dec 27, 2009
    Messages:
    12,933
    Likes Received:
    75
    Location:
    Ali Pur
    اس دکانداری کو مذھب نہیں ؛ مذھب فروشی کہا جاتا ہے. کوئی انسان اپنا ہنر بیچتا ہے، کوئی علم، کوئی مال، کوئی اولاد ، کوئی اپنی زندگی،اور کوئی اپنا جسم
    مذھب فروش وہ چیز بیچتے ہیں کہ جس کے لیے ایک عام انسان مندرجہ بالا تمام چیزیں قربان کرنے کیلیے تیار رہتا ہے. اسی لیے مذھب فروشوں کیلیے جہنم کا رذیل و پست ترین فلور بنایا گیا ہے

    جمہوریت کا طعنہ تو مجھے ایسے دے رہے ہو جیسے میں نے جمہوریت ایجاد کی ہے اور اسکی رائلٹی لے رہا ہوں . جنہوں نے جمہوریت ایجاد کی، اصول بھی تو وہی بنائیں گے نا. اور اصول ہمیشہ توڑنے کیلیے بناۓ جاتے ہیں :). یہی ٹرائل اینڈ ایرر ہی آگے بڑھنے کا واحد طریقہ ہے:). م-مدرسہ؛ ح-حلوہ والوں کا دنیا چلانے اور اس کا رخ متعین کرنے سے کوئی واسطہ نہیں. یہ صرف اور صرف دنیا کا" پنچنگ-بیگ" ہیں. جس کو غصہ آے، ان جانوروں کو جوتے مار کر نکال لو. فانٹ کو بڑا کرنے کی بجاۓ تھوڑا سا دماغ کو بڑا کرو

    جہاں تک "مذہبی خنس" کی بات ہے تو شام میں ایک لاکھ مسلمان کس کے مذہبی خنس کا شکار ہو ا ہے ؟؟؟ امریکہ کے عراق سے جانے کے بعد وہاں کونسا جہاد جاری ہے؟؟؟ اسی طرح پاکستان میں کونسا مذہبی خنس چالیس ہزار جانیں لے گیا؟؟؟ایک ایک اسلامی ملک دیکھتے جاؤ اور ذرا مجھے مذہبی خنس بتاتے جاؤ. اپنے گریبان میں جھانکنے کی زحمت کر لیتے تو چار سطروں کی بجاۓ چار لفظ نہ لکھ سکتے

    ویسے تمہارا اسلام سے کیا تعلق؟؟؟؟ تمھیں تو صرف اور صرف اپنے" مذھبِ آل-سعود" سے غرض ہونی چاہیے کہ جس کی ایرانی ملائیت سے جنگ نے ہر اسلامی ملک کو فساد، فتنے اور قتل و غارت کا اڈا بنایا ہوا ہے. تیرے اپنے آقا و مولا نے اخوانیوں کا خون پینے کیلیے پانچ ارب ڈالر دان کیے ہیں. اس طرف تجھ مذہب کے سوداگر کو مذہبی خنس دکھائی نہیں دیا:). اور یہ کافر ملاؤں والی بےغیرتی اب چھوڑ دے . انسان یھاں تبادلہ خیال کیلیے آتا ہے، تیرے جیسے کافر مُلّے سے "اسلام دشمن" کا خطاب لینا ہوتا تو تجھ جیسی جاہل کھوتیاں دنیا کے ہر محلے میں بکثرت پای جاتی ہیں. اور انٹرنیٹ کا بل بھی بچتا ہے:)
    [FONT=jameel noori nastaleeq][COLOR=#000000][FONT=jameel noori nastaleeq][FONT=jameel noori nastaleeq]۔[/FONT][/FONT][/COLOR][/FONT]
     
  3. Faryal Hassan

    Faryal Hassan New Member

    Joined:
    Oct 29, 2012
    Messages:
    6,942
    Likes Received:
    6
    Location:
    Punjab

    Moazzam Bhai !!!' You are so darn good when it comes to argument. Urdu vocabulary simply rocks !!!! Wish mine was that good.
     
  4. zarbekhas

    zarbekhas Active Member Siasi Karkun

    Joined:
    Jun 17, 2010
    Messages:
    1,831
    Likes Received:
    7
    itna lamba lecture
    woh bhi
    jahilon ko ??

    tob a toba
     
  5. benice

    benice Well-Known Member Siasi Karkun

    Joined:
    Jan 2, 2010
    Messages:
    6,564
    Likes Received:
    41
    Location:
    Karachi

    اتنا غصہ! بات مکو ٹھپنے کی ہو رہی تھی اور اسے گھما کر کہیں کی کہیں لے جا کر آخر اسلام، ملا، اور مولوی پر تان ٹوٹی۔
    پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ سوائے چار پانچ ناموں کو کوسنے دینے کے علاوہ پوسٹ میں کچھ نہیں ہوتا۔

    لمبی تقریر جھاڑ کر آپ کے چہانے والوں نے داد دینی شروع کر دی۔ واہ واہ۔
    زبان تو دیکھیں مہذب کہلانے والوں کی۔

    اب آیئے اصل بات کی طرف۔

    آل سعود اسلام نہیں ہے۔

    اصل سیاست کیا ہے؟

    آپ کے انکل سام کا کھیل ہے۔

    سارا کھیل یہ ہے کہ سعودی حکمران صرف اپنی حکومت بچانے کے لیے اور انکل سام اپنے پھٹو بچانے کے لیے سارا کھیل کھیلتے ہیں۔
    اس سارے ہنگامے میں لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ اسامہ ایک سعودی حکمران خاندان کا فرد تھا۔
    اس کا مطالبہ صرف اتنا تھا کہ سعودی عرب سے انکل سام کو چلتا کریں۔
    لیکن سعودی حکمرانوں کو معلوم تھا کہ اس کے بعد ان کی خیر نہیں۔
    نتیجہ اسامہ کو ملک بدر کر دیا۔
    اس کے بعد اس کو جہاں جگہ ملی وہ بھٹکتا پھرا۔
    اور انکل سام اور سعودی حکمرانوں نے پورا زور لگا دیا اسے ختم کرنے کے لیے۔
    یہ مذاق نہیں کہ جہاز اغوا کرنے والے اور انھیں نیویارک میں عمارتوں سے ٹکرانے والے سارے سعودی باشندے اور سارا نزلہ پاکستان اور افغانستان پر؟؟

    اس کے بعد جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ جیسے لوگوں کی بے عقلی کا نتیجہ ہے۔

    گالیاں نکالنا آسان ہے لیکن سچ کہنا مشکل۔

    شام میں اسد کے خلاف لڑنے والے اللہ اکبر کے نعرے لگا رہے ہیں اور انکل سام کو ان سے کوئی تکلیف نہیں آخر کیوں؟؟
    بلکہ انکل سام کی ایجنسیوں نے اپنی ب ن ڈ کا زور لگا رکھا ہے ان کی مدد کے لیے۔
    آپ نے کبھی اس پر لب کشائی نہیں کی؟؟
     
  6. R4BIAN

    R4BIAN New Member

    Joined:
    May 31, 2011
    Messages:
    4,759
    Likes Received:
    4
    انکل سام کے اُن بے لوث ترجمانوں کے خدمت میں، جنہیں سارے کیڑے مسلمانوں میں ہی نظر آتے ہیں۔ حق کون ہے اور باطل کون یہ فیصلہ ابھی ہوا چاہتا ہے۔ اب کیا فرماتے ہیں ہمارے وہ عزیزان جو اخوان المسلمون کو دین فروش اور گمراہ قرار دیتے ہیں؟
    "خدمة مصر للمسيح" نامی ویب سائٹ نے سیسی سفاک کی مدح سرائی میں انتہاء کردی اور آیات قرآنی میں تحریف کردیا اور "سورہ السیسی"کے نام سے تحریف شدہ آیات اپنی ویب سائٹ میں نشر کی ہیں۔۔۔۔۔۔۔

    تم پر اللہ اور اسکے ملآ ئکہ اور تمام انسانوں کی لعنت ہو ۔

    [​IMG]
     
  7. Sobiakhan1

    Sobiakhan1 New Member

    Joined:
    Sep 11, 2013
    Messages:
    2
    Likes Received:
    0
    naam islaami rakh lenay se kya hota hai, harkatain to wohi hain
     
  8. R4BIAN

    R4BIAN New Member

    Joined:
    May 31, 2011
    Messages:
    4,759
    Likes Received:
    4
    آپ کی پوسٹ کے آخری حصے سے معذرت کے ساتھ کچھ اختلاف کرونگا۔ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا الزام مخالفین پر لگایا گیا لیکن امریکہ نے شام کو یہ پیشکش کی تھی کہ اگر شامی حکومت کیمیائی ہتھیاروں کو اقوامِ متحدہ کی تحویل میں دے دیتا ہے تو شام پر حملہ ملتوی کیا جاسکتا ہے جس کے جواب میں بشار الاسد نے کیمیائی ہتھیار جمع کرانے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اِس سے قبل تو شامی حکومت کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی سے ہی انکاری تھی تو اب اُس کے پاس یہ ہتھیار کہاں سے آگئے؟ رہا آپ کا یہ سوال کہ اللہ اکبر کے نعرے لگانے والوں سے امریکہ کو کوئی تکلیف کیوں نہیں ہے تو بھائی آپ کا سوال درست ہے یا غلط یہ جاننے کیلئے آپ کو لیبیا کی جنگ کا پسِ منظر دیکھنا ہوگا۔۔ معمر قذافی نے مظاہرے کرنے والی عوام کو کیڑے مکوڑوں کی طرح مارنے کی دھمکی دی اور اُس پر عمل بھی شروع کیا تو عوام نے بھی مسلح مزاحمت شروع کردی بن غازی اُن کا مرکز رہا یکے بعد دیگرے شہر کے شہر قذافی کی فوج کے ہاتھوں سے نکلتے گئے اور نوبت یہاں تک آئی کہ اب محض دارالحکومت طرابلس ہی پر قذافی کی افواج قابض تھیں قریب تھا کہ عوامی مزاحمت کے نتیجے میں طرابلس بھی ہاتھ سے نکل جاتا انکل سام کو خدشہ لاحق ہوگیا کہ اب اگر فوری مداخلت نہیں کی گئی تو کسی بھی وقت وہاں اسلامی گروپ اقتدار پر قابض ہوسکتا ہے سو امریکہ نے اپنے اتحادیوں سمیت وہاں بمباری کرکے اِس اندیشے کو رفع کیا اور وہاں لبرل حکومت کو اقتدار دلوادیا جس کے بعد سے ابھی تک وہاں خانہ جنگی کی کیفیت ہے۔ بعینہ یہی کچھ شام میں ہورہا ہے، تیونس اور مصر کے دیکھا دیکھی شام کے عوام بھی اقلیتی گروہ کے طویل آمریت سے نجات حاصل کرنے کیلئے پُرامن احتجاج کرنے لگے تو بشار الاسد کی فوج نے اُن مظاہرین پر فائر کھول دیا جس کے بعد وہاں بھی مسلح مزاحمت شروع ہوگئی اور مخالفین شہروں پر قابض ہوتے ہوتے دمشق سے نواح تک جا پہنچے لیکن بشار الاسد کی فضائیہ کا اُن کے پاس کوئی توڑ نہیں تھا اِس لئے تاحال دمشق کے ارد گرد ہی لڑ رہے ہیں یہاں لیبیا کی بنسبت اسلامی گروپوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے اِس لئے امریکہ کو پھر اِن کے برسرِ اقتدار آنے کے اندیشے نے گھیرا اب اُسی طرح مداخلت کرکے شامی حکومت کے بجائے مخالفین کو پیچھے دھکیلنا چاہتا ہے اِس ضمن میں وہ مخالفین کو امداد دینے کا ناٹک رچا کر عالمِ اسلام کی نظر میں مخالفین کو باطل اور بشار الاسد کو حق قرار دلوانے کی رائے عامہ ہموار کررہا ہے حقیقت یہ ہے کہ یہ ایران اور امریکہ بیک ڈور چینل ایک دوسرے کے غیر اعلانیہ اتحادی ہیں۔ باقی آپ یہ کالم پڑھ لیں اِس میں چہرے کا دوسرا رُخ بے نقاب کیا گیا ہے۔

    امریکہ اور ایران کا چوتھا اتحاد

    عبداللہ طارق سہیل کا تجزیہ آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے

    شامی فوج نے بدایا میں ایک ہی گھرانے کے 13افراد شہید کر دئیے۔ ان میں سے تین مردوں کو گھر سے باہر نکال کر گولی مار دی گئی‘ باقی دس عورتوں اور بچوں کو گھر میں گھس کر پٹرول چھڑک کر زندہ جلا دیا گیا۔
    شام میں الوائٹ آرمی کے مظالم حد سے تو کب کے گزر چکے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ فوج کے ہاتھوں ہلاک ہونیوالے شہریوں کی تعداد دو لاکھ سے زیادہ ہو چکی ہے لیکن الوائٹ آرمی کا سرپرست امریکہ اور اس کے ادارے یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی کم بتا رہے ہیں۔ ایک لاکھ تو صرف حمص شہر میں مارے گئے۔ اس شہر کی کوئی عمارت سلامت نہیں رہی۔ شام کا یہ تیسرا بڑا شہر اب عملی طور پر موئن جودڑو (مردوں کا ویران ٹیلہ) بن چکا ہے۔
    شامی فوج اصحاب رسولؐ کے مزارات ایک ایک کر کے تباہ کر چکی ہے۔ اس کی بمباری سے کئی ہزار مساجد شہید ہو چکی ہیں۔ شام کا 70 فیصد رقبہ حریت پسندوں کے قبضے میں ہے لیکن ان کے پاس فضائیہ کو روکنے کیلئے کوئی ذریعہ نہیں‘ اس لئے ’’آزاد‘‘ علاقے بھی بمباری کی زد میں رہتے ہیں۔ 25 لاکھ سے زیادہ آبادی ملک سے باہر ہجرت کر چکی ہے‘ 50سے60 لاکھ اندرون ملک مہاجر Displaced ہیں۔ حلب کے جو ضلعے سرکاری فوج کے قبضے میں ہیں وہاں کی ساری آبادی قتل کر دی گئی ہے جس کی گنتی کا علم کسی کو نہیں۔ حمص اور حلب کا محاصرہ ایرانی‘ عراقی اور شامی افواج نے کر رکھا ہے۔
    شام چوتھا میدان ہے جہاں ایران اور امریکہ کا غیر علانیہ اتحاد وجود میں آیا ہے۔ عراق سے جنگ کے موقع پر یہ اتحاد وجود میں آیا تھا جب اسرائیل نے 500 ملین ڈالر کا اسلحہ ایران کو ارجنٹائن کے راستے فراہم کیا۔ بدلے میں ایران نے اسرائیل کو تیل دیا۔ امریکہ نے خود بھی کونٹرا باغیوں کے ذریعے ایران کو اسلحہ دیا۔ اسرائیلی انسٹرکٹروں نے ایرانی فضائیہ کو تربیت بھی دی۔اس کے بعد دوسرا اتحاد افغانستان میں ہوا اور تیسرا عراق میں۔ اب عراق کے راستے جہاں بیرونی سکیورٹی کی ذمہ داری اب بھی امریکہ کے سپرد ہے‘ روزانہ درجنوں ایرانی طیارے خطرناک اسلحہ (جن میں بنیام کلسٹر اور کیمیائی بم بھی شامل ہیں) شام پہنچاتے ہیں اور اس عمل کوامریکہ کی مکمل رضامندی حاصل ہے۔ ایک سال پہلے جب امریکہ حریت پسندوں کو اسلحہ دینے کی باتیں کر رہا تھا‘ ایک غیر ملکی اخبار نے لکھا تھا کہ امریکہ یہ بیان بازی صرف اپنی رائے عامہ کو مطمئن کرنے کیلئے کر رہا ہے۔ حقیقت میں وہ حریت پسندوں کو کبھی اسلحہ نہیں دے گا بلکہ دوسروں کو بھی روکے گا اور یہی ہوا۔ اس نے نہ صرف یورپی یونین کو اسلحہ دینے سے روک دیا ہے بلکہ ترکی اور سعودی عرب پر بھی اتنا دباؤ ڈالا ہے کہ انہوں نے بھی چھوٹے اسلحہ کی فراہمی روک دی ہے۔ ایک خلیجی ریاست شامی حریت پسندوں کو بھاری رقم دے رہی تھی‘ امریکہ نے اس کا امیر ہی بدل دیا‘ اب اس امیر کا بیٹا حکمران ہے۔
    شامی حریت پسندوں کے پاس اب سرکاری فوج سے چھینے گئے اسلحہ کے سوا کچھ نہیں لیکن وہ پھر بھی شامی فوج کو روکے ہوئے ہیں۔ شمال کے علاقے میں شامی فوج کے زیر قبضہ آخری شہر بھی اس ہفتے انہوں نے آزاد کرا لیا ہے۔ شام‘ عراق‘ ایران اور حزب اللہ کی اجتماعی فوجی طاقت بھی حریت پسند فوج کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ حریت پسند وں اور عوام کو جتنا بھی نقصان پہنچ رہا ہے‘ وہ فضائیہ سے پہنچ رہا ہے۔
    امریکہ اور اسرائیل کی کوشش ہے کہ جہاں تک ممکن ہو اسد حکومت کا بچاؤ کیا جائے۔ امریکہ کے تازہ بیانات سے پتہ چلتا ہے کہ اس کے خیال میں ’’خانہ جنگی‘‘ (حالانکہ یہ خانہ جنگی نہیں ہے‘ دس فیصد الوائٹ اقلیت 90 فیصد اکثریت کا قتل عام کر رہی ہے) ابھی دو تین سال تک چلے گی۔ اس کے بعد امریکہ مداخلت کرے گا یا ایسے حالات پیدا کرے گا کہ بحیرہ روم کے ساحل سے جنوب مشرق میں دمشق تک اور اسرائیلی سرحد سے لگنے والا شامی علاقہ الوائٹ کے حوالے کر دیا جائے گا۔ مشرق اور شمال کے علاقوں میں سیکولر سنی گروپوں کی حکومت بنا دی جائے گی اور شمال کی ترکی سے ملحقہ سرحد پر کرد ریاست قائم کی جائے گی۔ عراق کو بھی مزید دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائیگا۔ خلیج فارس کے ساحل پر جنوبی عراق کو شیعہ عراق‘ بغداد سے کچھ شمال اور مغرب تک سنی عراق بنا دیا جائے گا جبکہ شمالی علاقے کے کرد حصے کو جو پہلے ہی خود مختار ریاست بن چکا ہے‘ باقاعدہ آزاد حیثیت دے دی جائے گی۔ ایسی ہی تقسیم لبنان کی بھی ہوگی جبکہ افغانستان کی تقسیم کا منصوبہ معلق لگ رہا ہے کیونکہ امریکی اسٹیبلشمنٹ اس بارے میں منقسم ہے۔
    امریکہ سے پہلے تقریباً سارا مشرق وسطیٰ انگریزوں اور کچھ فرانسیسیوں کے قبضے میں تھا۔ یہ علاقہ انہوں نے عثمانی خلافت سے ہتھیایا تھا لیکن جاتے جاتے وہ ایسی سرحد بندی کر گئے کہ کردستان کا مسئلہ ایران‘ عراق اور ترکی (اور کسی حد تک شام کیلئے بھی) مصیبت بن کر ان پر مسلط ہو گیا۔ وہ چاہتے تو سارا کرد علاقہ کسی ایک ملک میں شامل کر دیتے (اس طرح اس ملک میں کردوں کی قابل لحاظ تعداد ہوتی اور وہ دوسرے لوگوں کی طرح امور حکومت میں برابر کے شریک ہوتے) یا کردستان کا ایک الگ ملک بنا دیتے۔ اس طرح کرد مسئلہ پیدا ہی نہ ہوتا۔
    مشرق وسطیٰ کی اہمیت یہ ہے کہ آرمگیڈن اسی علاقے میں لڑی جانی ہے اور یورپ و امریکہ پر مسلط اصل ادارہ ایوینجیلیکل فرقہ ہے جس کا عقیدہ ہے کہ حضرت مسیحؑ کی آمد ثانی کیلئے ہیکل سلیمانی کا بننا ضروری ہے۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ عرب ممالک کو داخلی سرحدی نسلی اور فرقہ وارانہ تقسیم میں اس طرح دھنسا دیا جائے کہ وہ اسرائیل کیلئے کوئی پریشانی نہ پیدا کر سکیں۔ مصر میں مرسی کی حکومت کی برطرف کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے ورنہ جو امریکہ ترکی کے سیاسی اسلام کو برداشت کر رہا ہے وہ مصر کے سیاسی اسلام کو بھی قبول کر سکتا تھا لیکن ترکی کا سیاسی اسلام اسرائیل کیلئے چونکہ براہ راست خطرناک نہیں ہے اس لئے وہ قبول ہے‘ اسرائیل کی سرحد پر واقع سب سے اہم عرب ملک مصر میں سیاسی یا غیر سیاسی کسی قسم کے ’’اسلام‘‘ کا وجود برداشت کرنا یقینی خطرہ مول لینے کے مترادف ہے چنانچہ ’’بدترین جمہوریت بہترین آمریت سے بہتر ہوتی ہے‘‘ کے اصول کا اطلاق عرب ملکوں کے لیے نہیں ہے۔
     
  9. benice

    benice Well-Known Member Siasi Karkun

    Joined:
    Jan 2, 2010
    Messages:
    6,564
    Likes Received:
    41
    Location:
    Karachi

    آپ کی بات درست۔
    شاید میں صحیح بات واضح نہیں کر سکا۔
    انکل سام صرف اپنا الو سیدھا کرتا ہے۔
    صرف اپنا کام نکالنے کے لیے یہ وقتی طور پر گدھے کو باپ بنا لیتا ہے
    اور کام نکلنے پر لات رسید کرتا ہے۔
    لیکن افسوس ہے کہ ایک سوراخ سے ڈسے جاانے والے بار بار اسی سوراخ سے ڈسے جا رہے ہیں اور ان کو علم ہی نہیں۔
     
  10. la-perwah

    la-perwah Active Member

    Joined:
    Jul 2, 2010
    Messages:
    5,734
    Likes Received:
    13
    ​یہ کیا ہے .........
     
  11. R4BIAN

    R4BIAN New Member

    Joined:
    May 31, 2011
    Messages:
    4,759
    Likes Received:
    4
    یہ ایک عدد ڈرائنگ روم میڈ سورت ہے جو سیسی کے کچھ چاہنے والے عیسائیوں کی تخلیق ہے اور اُن سے تاحال سیسی نے کوئی بازپُرس نہیں کی۔
     
  12. la-perwah

    la-perwah Active Member

    Joined:
    Jul 2, 2010
    Messages:
    5,734
    Likes Received:
    13
    ​سیسی کیا ہے .پلیز کوئی روشنی ڈالیں
     
  13. R4BIAN

    R4BIAN New Member

    Joined:
    May 31, 2011
    Messages:
    4,759
    Likes Received:
    4
    میرا خیال ہے کہ آپ جنرل عبد الفتاح السیسی کو اچھی طرح جانتی ہیں کہ وہ کیا ہے۔ ہر چیز پر روشنی ڈالنے سے میں تو رہا اب۔
     

Share This Page