Discussion چیف جسٹس کی گرج آئی ایس آئی کے سامنے غائب ہو جاتی ہے۔

Discussion in 'Current Affair and Siasi Debate' started by benice, Jul 4, 2018.

  1. benice

    benice Well-Known Member Siasi Karkun

    Joined:
    Jan 2, 2010
    Messages:
    6,564
    Likes Received:
    41
    Location:
    Karachi

    چیف جسٹس کی گرج آئی ایس آئی کے سامنے غائب ہو جاتی ہے۔

    مندرجہ ذیل خبر میں فورا قانون نافذ کرنے کی عادت کو بریک لگ گئی۔
    اب اپنے آقاوں کے خلاف فیصلہ دے کر ان کو ناراض تو نہیں کر سکتے۔۔۔۔
    ہاں نواز شریف کے خلاف کوئی فیصلہ ہوتا تو پھر دیکھتے کیسی کیسی پھرتیاں ۔
    اور قانون کی بالا دستی کے لیکچر ۔
    ہا ہا ہا


    آئی ایس آئی ہیڈکوارٹر کے سامنے بند سڑک کھولنے میں مہلت کا فیصلہ معطل

    پاکستان کی عدالت عظمی نے فوج کے خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلیجنس یعنی آئی ایس آئی کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے سے گزرنے والی سڑک کھولنے میں مہلت سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزارت دفاع کو یہ سڑک کھولنے کے لیے چھ ہفتے کی مہلت دی تھی تاہم عدالت عالیہ کے سڑک کھولنے کے فیصلے کو وزارت دفاع نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔جسے چند گھنٹوں کے بعد ہی سماعت کے لیے منظور کر لیا گیا۔

    چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے بدھ کو اس درخواست کی سماعت کی۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے وفاقی دارالحکومت میں تجاوزات سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران آئی ایس آئی کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے سے گزرنے والی سڑک خیابان سہروردی کے کچھ حصے کو، جو عرصہ دراز سے بند ہے، دوبارہ نہ کھولنے پر سیکرٹری دفاع اور آئی ایس آئی کے سربراہ کو چار جولائی کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

    نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق تین جولائی کو وزارت دفاع کی طرف سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی جانے والی ایک متفرق درخواست میں وزارت دفاع نے سڑک کھولنے سے متعلق چھ ہفتوں کی مہلت کے علاوہ سیکرٹری دفاع اور ڈی جی آئی ایس آئی کی حاضری سے استثنی مانگا تھا جسے عدالت نے منظور کر لیا تھا۔

    اس درخواست میں یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ آئی ایس آئی میں سینکڑوں افراد کام کرتے ہیں اور مختلف کالعدم تنظیموں کی طرف سے ان کو سنگین نتائج کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔

    اس درخواست میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ وزارت دفاع چھ ہفتوں میں مناسب سکیورٹی کا متبادل انتظام کرنے کے بعد اس سڑک کو کھولنے کے بارے میں عدالت کو آگاہ کرے گی۔

    بدھ کو عدالت عالیہ کے فیصلے کے خلاف وزارت دفاع کی درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’سڑک کو تو ہر حال میں کھولنا پڑے گا۔‘

    اُنھوں نے کہا کہ اگر اس ضمن میں فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ کو بھی بلانا پڑا تو اس سے بھی دریغ نہیں کیا جائے گا۔

    عدالت نے سی ڈی اے حکام سے استفسار کیا کہ کیا ماسٹر پلان میں سڑک کے اس حصے کو بند رکھنے کی کوئی تجویز دی گئی تھی جہاں پر آئی ایس آئی کا ہیڈکوارٹر واقع ہے۔


    آئی ایس آئی ہیڈکوارٹر کے سامنے بند سڑک کھولنے میں مہلت کا فیصلہ معطل - BBC News اردو
     

Share This Page