حماقت‘ صحافت اور سیاست

Discussion in 'Politics Debate and Polls' started by Hidden_Trigger, Dec 22, 2011.

  1. Hidden_Trigger

    Hidden_Trigger Banned

    Joined:
    Nov 24, 2011
    Messages:
    2,838
    Likes Received:
    5
    Location:
    ik talatum mai...........
    [h=1]حماقت‘ صحافت اور سیاست
    [/h] | ـ 18 دسمبر ، 2011 اس سے زیادہ آزادی¿ اظہار کیا ہے کہ پاکستانی میڈیا کا ایک آدمی عظیم لیڈر بابائے قوم کے خلاف بدتمیزی کرتا ہے اور یہ الزام بھی لگاتا ہے کہ یہاں آزادی¿ اظہار نہیں ہے۔ ایسے مادر پدر آزاد خواتین و حضرات صرف پاکستان میں ہیں۔ نجم سیٹھی کو خیال نہ آیا۔ ایک نجی ٹی وی چینل پر قائداعظم کے ایک اقدام کیلئے حماقت کا لفظ استعمال کیا۔ منیب فاروق نے بھی اس بے شرمی کا نوٹس نہ لیا۔ اختلاف ٹھیک ہے مگر یہ حق اس کا ہے جو اعتراف کرنا بھی جانتا ہو۔ بے انصاف لوگ صرف اختلاف کرتے ہیں یا صرف اعتراف کرتے ہیں۔ ظالم امریکہ کی حمایت اور بے بس پاکستان کی مخالفت ان کا شیوہ ہے۔ امریکہ کا کوئی صحافی صدر واشنگٹن پر تنقید کر سکتا ہے۔ بھارت میں مسٹر گاندھی سے بھی اختلاف ہو سکتا ہے مگر کوئی شخص کہ وہ کتنا ہی بدتمیز کیوں نہ ہو۔ انہیں احمق نہیں کہہ سکتا۔ گاندھی اور نہرو نے کتنے ہی ایسے اقدام کئے ہوں گے تو کبھی نجم سیٹھی بھارت میں جا کے انہیں احمق کہہ سکتا ہے؟ قائداعظم کو حماقت کا طعنہ دینا نجم کا افتخار ہے۔ کیا ہمارا زور اپنے قابل صد احترام لوگوں پر چلتا ہے۔ نوازشریف کیلئے خوشامدیوں کی طرف سے قائداعظم ثانی کا نعرہ ایک نالہ بن کے رہ گیا ہے۔ وہ بھارت نواز تنظیم سیفمامیں امتیاز عالم کا مہمان خصوصی بنا اور بھارت کیلئے پسندیدگی کی باتیں کیں۔ بھارت نے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنایا جو غیر متنازعہ علاقہ تھا۔ کیا بھارت میں ایک بھی آدمی ہے جو کشمیر کیلئے بھارت کی ظالمانہ قتل و غارت پر اعتراض اٹھائے۔ تم بھارت کی جمہوریت کی باتیں کرتے ہو اور پاکستان میں مارشل لا کے طعنے دیتے ہو مگر تمہاری نام نہاد جمہوری اور سیکولر بھارتی حکومت نے کشمیر اور کئی دوسری جگہوں پر مارشل لا لگایا ہوا ہے۔ ہم نے مارشل لا کے خلاف جدوجہد کی ہے مگر ہم اس مارشلائی جمہوریت کے بھی خلاف ہیں جس کی سرپرستی امریکہ کرتا ہے۔ امتنان شاہد نے اپنے اخبار میں ایک زبردست اور جرا¿ت مندانہ کالم لکھا ہے۔
    غریبوں کے ملک میں ایک صحافی نے اپنی نسبت سیٹھ کے ساتھ جوڑی ہوئی ہے۔ نجم سیٹھی اپنے ملک کے خلاف باتیں کر کے امریکہ اور بھارت کی امداد سے بہت بڑا سیٹھ بن چکا ہے۔ وہ اپنی اہلیہ جگنو محسن سے ہی کچھ سیکھ لے۔ افتخار عارف کے ساتھ جگنو نے تہذیبی اور تخلیقی انداز میں انٹرویو کیا۔ وہ قائداعظم کیلئے نجم سیٹھی کی اس زبان درازی کی حمایت نہیں کرے گی۔ نجم اپنی بیوی سے اس حماقت کی معافی مانگے۔ قوم تو اسے کبھی معاف نہیں کرے گی۔ نجم سیٹھی کو حکومتوں کی حماقتیں نظر نہیں آتیں۔ حکومت کی نسبت سے اس حرکت کو ”حماکت“ کہنا چاہئے۔ نجم کو یہ دونوں پسند ہیں۔ حکومت سے حکمت کی توقع ہی نہیں کی جا سکتی۔ نجم سیٹھی جیسے کئی لوگ صحافت کو بھی حماقت کے درجے پر رکھتے ہیں۔ اسے شاید بھول گیا ہے۔ اس بھول کیلئے بھی امریکی اشارہ ضروری ہے۔ اس کے ساتھ نوازشریف نے کسی معاملے میں بدسلوکی کی حد کر دی تھی۔ تب ہم نے اس کی حمایت کی تھی مگر اس نے اپنے آپ کو چھڑوانے کیلئے امریکی امداد ضروری سمجھی تھی۔ اس کیلئے امریکہ اتنا ہی بے تاب تھا جتنا ریمنڈ ڈیوس کیلئے تھا۔ نجم کو بھی رہائی ملی اور دیت کے ڈالر بھی اسے ہی ملے۔ اس طرح کی رہائی اور رسوائی میں خاص فرق نہیں ہوتا۔ آج وہ نوازشریف کا بہت بڑا حامی ہے۔ یہ بھی امریکہ کا کوئی اشارہ ہے۔
    امتنان شاہد نے نجم سیٹھی کی حماقتوں اور ندامتوں کو اچھی طرح سمجھا ہے۔ اس کی معلومات اکثر اوقات غلط ثابت ہو جائیں تو وہ کہتا ہے کہ معلومات دینے والی چڑیا کو میں نے معطل کر دیا ہے۔ اتنی بار تو شہباز شریف نے کرپٹ اور نااہل ملازمین کو معطل نہیں کیا ہو گا۔ جو آدمی اپنے ملک کے خلاف دشمن ملک سے ہدایات لیتا ہو۔ وہ پالتو چڑیا اور صبح کی چڑیا میں تمیز نہیں کر سکتا۔ معصوم چڑیوں کی چونچل بانی صحافتی من مانی کے کام نہیں آ سکتی۔ وہ بھی جو امریکہ کی چڑیا ہے نوٹ کرے کہ سب کچھ پاکستانی ہونے کے ناطے اسے میسر آیا ہے۔ ورنہ بھارت میں بھی مسلمان صحافی ہیں اور نجم کے محبوب ملک میں ان کا جو حشر ہو رہا ہے۔ وہ بھی سب جانتے ہیں۔ بھارت میں ہندو بھی یہ نہیں کر سکتے جو نجم کر رہا ہے اور نہ کسی کو وطن دشمنی کیلئے اتنا مال و منال مل سکتا ہے جو اسے ملتا ہے۔ یہ سب پاکستان کی برکات ہیں۔جب فاروق لغاری عُرف فارغ لغاری نے اپنی ہی لیڈر بینظیر بھٹو کی حکومت کو فارغ کیا تو اس نے نجم کو وزیر شذیر بنا لیا۔ اس نے جمہوری حکومت کی مخالفت اور ”جمہوری مارشل لا“ کی حمایت بھی کی ہو گی۔حیرت ہے کہ سیفماوالے پاکستانی فوج کے خلاف ہیں مگر بھارتی اور امریکی فوج کے خلاف نہیں۔ وہ افغانستان میں قابض روسی فوج کے بھی خلاف نہ تھے۔ پاکستانی فوج نہ آئے مگر کوئی غیر فوج آ جائے۔ اس سلسلے میں امریکی اور بھارتی فوج ان کی پسندیدہ ہے۔ ہم بھی نہیں چاہتے کہ پاکستانی فوج سیاست میں آئے مگر یہ بھی نہیں چاہتے کہ وہ بھارتی سرحد سے افغان سرحد کی طرف چلی جائے۔ قائداعظم کے اقدام میں غلطی کی گنجائش ہو سکتی ہے مگر یہ بدنیتی نہیں اور حماقت بھی نہیں۔ جو زبان نجم سیٹھی نے ان کیلئے استعمال کی ہے وہ غلطی ہے۔ بدنیتی ہے اور حماقت بھی ہے۔

     

Share This Page