News تمام سیاسی جماعتوں نےاقتصادی راہداری منصوبے پرعمل درآمد کی متفقہ منظوری دے دی

Discussion in 'News and Current Affairs' started by ghazi52, May 28, 2015.

  1. ghazi52

    ghazi52 Senior Member Siasi Karkun

    Joined:
    Apr 20, 2006
    Messages:
    786
    Likes Received:
    1
    Gender:
    Male
    Location:
    USA
    تمام سیاسی جماعتوں نےاقتصادی راہداری منصوبے پرعمل درآمد کی متفقہ منظوری دے دی
    ویب ڈیسک جمعرات 28 مئ 2015
    تبصرےصفحہ پرنٹ کریںدوستوں کو بھیجئے

    [​IMG]
    سانحہ صفورا گوٹھ پر حملہ کرنے والوں کو ہر صورت کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا، وزیراعظم۔ فوٹو: آن لائن

    اسلام آباد: پاک چین اقتصادی راہداری پرتمام سیاسی جماعتوں کواعتماد لینے کے لئے بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس کے اجلاس کے بعد اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے جس کے مطابق تمام سیاسی جماعتوں نے منصوبے کی متفقہ منظوری دے دی۔

    وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت ہونے والی اے پی سی کے اعلامیئے کے مطابق پاک چین اقتصادی راہداری کےمغربی روٹ کی تعمیرترجیحی بنیادوں پرمکمل کی جائے اور راہداری منصوبے کے تحت سڑکیں، ریل نیٹ ورکس، ہوائی اڈے اور سی پورٹس تعمیرکی جائے گی۔ اس موقع پر وزیراعظم نواز شریف کا اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ قومی معاملات پر اتفاق رائے اور افہام و تفہیم کے ذریعے آگے بڑھنا چاہتے ہیں، پاک چین دوستی سیاست سے بالاتر اور تمام جماعتوں کے لئے یکساں ہے، حکومت پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کو شفاف بنانا چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاستدانوں نے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھا ہے تاہم جمہوری طریقے سے انتقال اقتدار خوش آئند ہے اور اس سلسلے میں 18 ویں ترمیم کی متفقہ منظوری بہت بڑا سنگ میل ہے۔

    بعدازاں وفاقی وزیر منصوبہ بندی و پلاننگ احسن اقبال نے پارلیمانی رہنماؤں کو پاک چین اقتصادی راہداری کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاک چین اکنامک کوریڈور کے روٹ میں تبدیلی کے حوالے سے بدگمانی پائی جاتی ہے، منصوبے کے روٹ میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی جا رہی اور روٹ چاروں صوبوں سے گزرتا ہے۔

    اجلاس کے اختتام پر وزیراعظم نواز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ 21ویں صدی اقتصادی اورمعاشی مقابلے کی صدی ہے،چین نے اقتصادی منصوبے کی صورت میں پاکستان کو ایک انمول موقع فراہم کیا ہے،اقتصادی راہداری منصوبے پر ملک کی سیاسی قیادت تعاون پرمتفق ہوگئیں ہیں۔ ہم سب اس بات پر متفق ہیں کہ اس منصوبے کے ثمرات میں ملک کے تمام صوبوں اور علاقوں کو بلاامتیاز شریک کیا جائے گا اور اس بات کو یقینی بنایاجائے گا کہ اس پر عمل درآمد کے ذریعے تمام صوبوں کے مساویانہ ترقی کے عمل کو فروغ دیا جائے۔

    وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ سیاسی قیادت نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ خنجراب سے گوادر تک کے منصوبے میں مغربی راہداری کو سب سے پہلے مکمل کیا جائے گا اور اس پر رواں برس ہی کام شروع کردیا جائے گا، اقتصادی راہداری منصوبے کی نگرانی کے لئے پارلیمانی کمیٹی قائم کی جائے گی، جس میں تمام پارلیمانی جماعتوں کی نمائندگی ہوگی، اس کے علاوہ وزارت منصوبہ بنندی میں صوبوں کی نمائندگی سے ورکنگ گروپ تشکیل دیا جائے جو مستقبل میں ان کے خدشات کا ازالہ بھی کرے گا۔

    پاک چین اقتصادی راہداری پر اپوزیشن جماعتوں کے تحفظات دور کرنے کے حوالے سے بلائی گئی کل جماعتی کانفرنس میں وفاقی وزراء اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ سمیت پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، متحدہ قومی موومنٹ، عوامی نیشنل پارٹی، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام (ف) اور نیشنل پارٹی سمیت دیگر جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔
     

Share This Page