Featured News ايک اور امريکی تحفہ

Discussion in 'Current Affair and Siasi Debate' started by fawad, Apr 14, 2014.

  1. fawad

    fawad Member Siasi Karkun

    Joined:
    Mar 31, 2008
    Messages:
    681
    Likes Received:
    0

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    امریکہ کی جانب سے بجلی گھروں پر کام کرنیوالے انجینئرزکو
    توانائی کے شعبے کی کارکردگی بہتر بنانے کی تربیت

    اسلام آباد (۱۱ اپریل ۲۰۱۴ء)___ امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کی مالی اعانت سے ملک بھر میں بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کے بیس پاکستانی انجینئرز کو۱۰ اپریل کو منعقدہ ایک تقریب میں تھرمل پروگرام کی تربیت مکمل کرنے پرسرٹیفیکیٹ دیئے گئے۔ یہ کورس ان انجینئرز کو ان کی تکنیکی صلاحیتوں کو بڑھانے اور اس صنعت میں اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے اور بجلی گھروں کی دیکھ بھال اور ان کے انتظام وانصرام کی بہترین مشق حاصل کرنے میں مدد دینے کیلئے وضع کیا گیا تھا ۔

    یو ایس ایڈکے انرجی پالیسی پروگرام کے زیراہتمام یہ پروگرام بجلی کے شعبے میں استعدادکار بڑھانے کے وسیع تر منصوبے کا ایک اہم جزو ہے۔ یہ پروگرام حکومت امریکہ کی جانب سے پاکستانی حکومت کی ان کوششوں میں اعانت فراہم کرنے کے عزم کا حصہ ہے جو وہ ملک میں بجلی کی پیداوار میں اضافہ کرنے اورتوانائی کے باکفایت استعمال ، بجلی کی ترسیل، ایندھن کی سپلائی کے بنیادی ڈھانچے اور پالیسی میں اصلاحات کو بہتربنانے کیلئے کررہی ہے۔

    یوایس ایڈ کےدفتر برائے توانائی کے قائم مقام ڈائریکٹر ٹم مورنے، جنہوں نے سرٹیفیکیٹ تقسیم کرنے کی تقریب کی صدارت کی، کہا کہ امریکی حکومت پاکستان میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو ترقی دینے اور اسے اپ گریڈ کرنے کیلئے حکومت پاکستان کے ساتھ کام کرنے کے حوالے سے پرعزم ہے۔

    امریکی حکومت کی جانب سے پاکستان میں توانائی کے شعبے کیلئے دی جانے والی اعانت کا مقصدملک بھر میں بجلی کی پیداوار بڑھانا ہے جس کے تحت ۲۰۱۴ ءکے آخر تک متوقع طور پر پاکستان کے قومی گرڈ میں ۱۴۰۰ میگاواٹ کا اضافہ کرنا ہے جس سے لگ بھگ ایک کروڑ ساٹھ لاکھ افراد مستفید ہونگے۔اس پروگرام کے ذریعے امریکہ نے تربیلا، جامشورو، گدو اورمظفر گڑھ میں بجلی گھروں کی مرمت اور گومل زام اور ست پارا ڈیموں کی تعمیر مکمل کرنے کیلئے مالی اعانت فراہم کی ہے اور پاکستان بھر میں بجلی کی تقسیم کو بہتر بنانے میں مدد دی ہے۔ان کوششوں کے ذریعے پہلے ہی پاکستان میں بجلی کے شعبے میں ایک ہزار میگاواٹ کا اضافہ کیا جا چکا ہے۔


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu


     
  2. angleena@aol.com

    angleena@aol.com Active Member Siasi Karkun

    Joined:
    Mar 22, 2010
    Messages:
    1,520
    Likes Received:
    4
    Location:
    North A. Side
    We do appreciate any effort that could solve a Long pending energy crises in Pakistan, US aid came too late and they waited too long to put their Part character in such a vulnerable crises in the history of Pakistan. In reality , above steps are ""gimmicky"" seems like US department is Bragging about it, infect it should have been addressed Long ago, USA and rest of the world strategically and purposely waited for that Long.

    You know why, Friendship should be faithful without any enigmatic hidden agenda, But I believe that the world was waiting for Pakistan to fall into a deep ditch ! They want us to fight against a hidden enemy disguised within the demographic existence of Pakistan, they want us to risk the civilian safety and security at any cost but fight with cold blooded, headless enemy who they themselves couldn't control, anyways thing is that , finally USA realised what we needed LONG AGO to over come poverty, illiterate, bigotry , deviance, And in-equality in our society.

    We do need energy, so that our Industry start working, we can put people back to work, People can put their kids aback to school, and the whole society could do better in Art and science. At the end I would say, USA, this is not enough, its gimmicky, kind of a self appraisal, I like to say your word Please ""DO MORE"" ""DO MORE"" Do More in energy sector. Thanks



     
  3. benice

    benice Well-Known Member Siasi Karkun

    Joined:
    Jan 2, 2010
    Messages:
    6,553
    Likes Received:
    41
    Location:
    Karachi
    What is the Catch?

    بھیک منگی قوم کے لیےمزید بھیک۔
    پچھلے تحفے بھی گنوا دیں۔
     
  4. angleena@aol.com

    angleena@aol.com Active Member Siasi Karkun

    Joined:
    Mar 22, 2010
    Messages:
    1,520
    Likes Received:
    4
    Location:
    North A. Side
    LOL...Well Everyone has their own tactics of Begging, America Beg for "DO MORE", DO more when ever they need it, Thing is that, for Afghan war against Russia, Pakistan did a Lot, You know how it works in USA, You scratch my back I scratch your back, They don't do it anything for free, Americans don't cut their dad's lawn grass for free, You know what I mean, oh I forgot Americans famous quote, ""MONEY TALKS BULL SH IT WALKS"" :D, If Americans are helping us a penny in dollars what is a catch in it, ultimately on worlds money everyone has some rights !! :d
     
  5. Moon968

    Moon968 New Member

    Joined:
    Apr 14, 2014
    Messages:
    5
    Likes Received:
    0
    There is a long story behind this. US is promoting there culture in Pakistan.
     
  6. fawad

    fawad Member Siasi Karkun

    Joined:
    Mar 31, 2008
    Messages:
    681
    Likes Received:
    0


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    امريکی امداد کا مقصد ذرائع اور وسائل کا اشتراک اور ترسيل ہے جس کی بدولت ممالک کے مابين مضبوط تعلقات
    استوار کيے جا سکيں۔ عالمی سطح پر دو ممالک کے درميان تعلقات کی نوعيت اس بات کی غماز ہوتی ہے کہ باہمی مفاد کے ايسے پروگرام اور مقاصد پر اتفاق راۓ کیا جاۓ جس سے دونوں ممالک کے عوام کو فائدہ پہنچے۔ اسی تناظر ميں وہی روابط برقرار رہ سکتے ہيں جس ميں دونوں ممالک کا مفاد شامل ہو۔ دنيا ميں آپ کے جتنے دوست ہوں گے، عوام کے معيار زندگی کو بہتر کرنے کے اتنے ہی زيادہ مواقع آپ کے پاس ہوں گے۔ اس اصول کو مد نظر رکھتے ہوۓ امداد کے عالمی پروگرامز دو ممالک کے عوام کے مفاد اور بہتر زندگی کے مواقع فراہم کرنے کے ليے ايک
    دوسرے کی مشاورت سے تشکيل ديے جاتے ہيں۔

    اس ميں کوئ شک نہيں کہ افغانستان ميں اپنے مقاصد کے حصول کے ليے امريکہ ايک فعال، مستحکم اور مضبوط پاکستان کی ضرورت کو اچھی طرح سے سمجھتا ہے۔ يہ بھی واضح رہے کہ ان مقاصد کا حصول پاکستان کے بھی بہترين مفاد ميں ہے۔

    امريکہ پاکستان ميں ايک منتخب جمہوری حکومت کو کامياب ديکھنے کا خواہ ہے جو نہ صرف ضروريات زندگی کی بنيادی سہولتيں فراہم کرے بلکہ اپنی رٹ بھی قائم کرے۔ اس ضمن میں امريکہ نے ترقياتی منصوبوں کے ضمن ميں کئ سالوں سے مسلسل امداد دی ہے۔ انتہا پسندی کی وہ سوچ اور عفريت جس نے دنيا کے بڑے حصے کو متاثر کيا ہے اس کے خاتمے کے لیے يہ امر انتہائ اہم ہے۔

    تمام تر معاشی مسائل کے باوجود امريکی حکومت ہر ممکن امداد فراہم کر رہی ہے۔ يہ امداد محض تربيت اور سازوسامان تک ہی محدود نہيں ہے بلکہ اس ميں فوجی اور ترقياتی امداد بھی شامل ہے۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu
     
  7. fawad

    fawad Member Siasi Karkun

    Joined:
    Mar 31, 2008
    Messages:
    681
    Likes Received:
    0

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    آپ کی آراء سے يہ تاثر ملتا ہے کہ گويا امريکی حکومت کی جانب سے کئ برسوں پر محيط جو مدد اور تعاون فراہم کيا گيا ہے وہ کسی طور قوم کو خود انحصاری کے بنيادی فلسفے سے دور کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان پر امريکہ کی پاليسيوں اور سوچ زبردستی مسلط کرنے کا سبب بھی ہے۔

    کچھ باتوں کی وضاحت کرنا چاہوں گا۔ امريکہ سميت دنيا کا کوئ بھی ملک حکومت پاکستان اور متعلقہ عہديداروں کو ان کی مرضی کے برخلاف اس بات کے ليے مجبور نہيں کر سکتا کہ وہ امدادی پيکجز، ترقيانی منصوبے اور مالی مفادات وصول کريں۔ کن منصوبوں کو حتمی منظوری دی جانی ہے، کتنی امدادی رقم، سازوسامان، مہارت اور وسائل تک رسائ کی اجازت دی جانی ہے اور ملک ميں ان کی ترسيل کے ليے کيا طريقہ کار اور عمل وضع کيا جانا ہے، وہ فيصلے ہيں جو پاکستانی شراکت داروں کے ساتھ مکمل تعاون کے بعد ہی کيے جاتے ہيں۔ يو ايس ايڈ يا کسی بھی دوسری سرکاری يا غير سرکاری اين جی او کے پاکستان ميں دائرہ کار کی مکمل اجازت کا اختيار پاکستان کے جمہوری طور پر منتخب قائدين کے پاس ہوتا ہے۔

    کچھ ماہ قبل پاکستان کے منتخب وزيراعظم جناب نواز شريف صاحب واشنگٹن ڈی سی تشريف لاۓ تھے اور انھيں يہ موقع ملا تھا کہ وہ مختلف عالمی فورمز اور تھنک ٹيکنس کے سامنے اپنی نومنتخب حکومت کو درپيش کچھ اہم چيلنجز کو اجاگر کريں۔ ميں بذات خود ايک سيمينار ميں موجود تھا جس ميں انھوں نے امريکہ اور پاکستان کے مابين تعلقات ميں مضبوطی اور اس ميں وسعت کے ليے توانائ، تعليم، معيشت، قانون کے نفاذ اور ديگر باہمی اہميت کے حامل شعبوں ميں وسا‏ئل اور مہارت ميں شراکت کی ضرورت پر زور ديا۔ کيا آپ واقعی يہ سمجھتے ہيں کہ امريکہ کے ليے زيادہ بہتر حکمت عملی يہ ہے کہ ان جذبات کو آپ کے خيالات کی روشنی میں يکسر مسترد کر ديا جاۓ؟

    حاليہ ہفتوں ميں يو ايس ايڈ کے توسط سے جاری کچھ اہم منصوبوں پر ايک سرسری نظر ڈالیں اور پھر مجھے بتائيں کہ باہمی اتفاق راۓ سے منظور شدہ ان منصوبوں سے پاکستانی معاشرے کو نقصان پہنچانے کا کوئ بھی پہلو اجاگر ہوتا ہے؟


    [​IMG]
    [​IMG]
    [​IMG]
    [​IMG]
    [​IMG]
    [​IMG]
    [​IMG]
    [​IMG]
    [​IMG]
    [​IMG]
    [​IMG]
    [​IMG]
    [​IMG]
    [​IMG]
    [​IMG]

    کيا آپ واقعی يہ سمجھتے ہيں کہ يہ بات پاکستان کے مفاد ميں ہے کہ دونوں ممالک کے مابين تعلقات کو منقطع کر ديا جاۓ اور اس امريکی امداد کو بھی مسترد کر ديا جاۓ جس سے لاکھوں عام پاکستانی شہريوں کے مفادات وابستہ ہيں؟


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu
     
  8. Kaleem

    Kaleem UnderEstimated Staff Member Administrative Siasi Karkun

    Joined:
    Mar 31, 2006
    Messages:
    33,182
    Likes Received:
    31
    Location:
    New Jersey
    Dont listen to these fools they cant even go to Kuwait or even be looked as regular people in the Middle eastern "arab" countries.

    Keep on doing the good work as long as it helps the people of Pakistan.
     
  9. angleena@aol.com

    angleena@aol.com Active Member Siasi Karkun

    Joined:
    Mar 22, 2010
    Messages:
    1,520
    Likes Received:
    4
    Location:
    North A. Side
    We do appreciate Americans for Public welfare projects. However, I am talking about mutual Relationship Pre-2000, Clinton Era was one of the best, USA had balanced foreign policies, there were No barriers in-front of any embassy in Pakistan, we used to go to US high commission without invitation, looking for University and their admission requirement. We used to sit there and wished to be in US for higher studies or work, I watched many movies at US consulate, they used to offer free movie watch facility for young people . Majority of Pakistani wished to be in USA, for work, education and visit. Pakistani loved American stuff, they still do, however,There wasn't any Talban or Al-qaeeda, Terrorist or Mullahism factor attached with Pakistan or Muslims.

    Table turned post 9 11, USA leaned towards India and Israel, Actually they sat down in their Laps, their Policy was to stink all current and previous relationship with Pakistan, Pakistani Public and rest of Islamic countries, USA policy maker declared a war against Muslims, for a worst Terrorist attack on 9 11 in which many Pakistanis and even Muslims Died, interestingly None of among 11 Terrorist were a single Pakistani, they were all terrorists Not Muslim Terrorists, But What happened, every policy, every law, every effort was against Muslims only, Billions of Muslims were humiliated, disgraced, Demeaned, for some unknown 11 terrorist, Americans Media instigate International Media, the entire world turned against Muslims, Every country start screening Muslims only, Muslims were Maligned and disparaged at every airports, Universities, and even a small social crime started to associate with Great Religion of Islam, But who did that all? USA, Yeah USA policy maker who were sat in the laps of INDIA AND ISRAEL, USA didn't use their head at that time, that it was Muslims who actually backed USA on every step till USA REACHED at the position of Super Power, all Muslims countries never be unfaithful with USA, But USA couldn't make an impression that they are faithful and staunch Friend of Muslim world.

    Now USA have been defeated by some bunch of warriors in Afghanistan, on the other hand USA has lost economy fueled by Arab rich world, and rich Muslims around the world, they took their assets off and left USA, Because everyone thought that USA became a shoulder to ISEAL AND INDIAN's grudges and enmity against Muslims, may USA thought that Indian sneaky investors and Israel cheap Jews will hold their economy and country?? NO, Because They don't know that Indian are too nationalist and Jews are too unfaithful and unreliable. Long story short , USA has lost their Position and confidence among Muslim world, Now whatever they are doing after damage has been done that crack is always be there, Sooner or later, Policy maker will repent and curse their post 9 11 policies against Muslims only, Anyways keep on doing good work Americans cuz you have to do a lot to re-gain the pre 9 11 position in Muslim world, Remember that You have maligned and disparaged Muslims but Billions of Muslims are still rising and shinning. Remember terrorists have no religion, they are animals, no religion covers them, anyways, We (MUSLIMS) ARE OPEN BIG HEARTED PEOPLE AND COULD FORGIVE AND FORGET WHATEVER HAS HAPPENED TO US ONLY IF YOU WOULD LIKE TO SHOW FAITHFULNESS AND COMMITMENT!GOT IT, Thanks and have good one !! :)



     
  10. benice

    benice Well-Known Member Siasi Karkun

    Joined:
    Jan 2, 2010
    Messages:
    6,553
    Likes Received:
    41
    Location:
    Karachi

    'کیا امریکی سودائی ہیں'
    اصناف: بحث, سیاست, مزاح

    وسعت اللہ خان | 2009-11-06 ،15:42


    یہ خبر تو آپ نے سن ہی لی ہوگی کہ ایک اطالوی عدالت نے امریکی سی آئی اے کے تئیس اور اطالوی خفیہ کے دو ایجنٹوں کو ایک مصری عالم ابو عمر کو اطالوی شہر میلان سے اغوا کر کے مصر منتقل کرنے کے جرم میں تین سے آٹھ برس تک قید اور دو دو ملین یورو جرمانے کی سزا سنائی ہے۔


    اگرچہ مجرم قرار دیے گئے امریکی ایجنٹ بہت پہلے اٹلی چھوڑ کر اپنے ملک جا چکے ہیں لیکن دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں لاقانونیت کو لگام دینے کے تعلق سے مذکورہ فیصلے کی زبردست علامتی اہمیت بتائی جا رہی ہے۔


    مگر اس اطالوی عدالتی کے فیصلے سے 'بے وفائی' اور 'احسان فراموشی' کی بو بھی آ رہی ہے کیونکہ امریکہ وہ ملک ہے جس نے دوسری عالمی جنگ میں اٹلی کو مسولینی کے فاشزم سے نجات دلوائی اور بعد ازاں جنگ زدہ اٹلی کی تعمیرِ نو کے لیے مارشل پلان کے تحت کروڑوں ڈالر کی امداد دی۔ امریکی سی آئی اے نے سرد جنگ کے دوران اٹلی کو کیمونسٹوں کے سیلاب سے محفوظ رکھنے کے لیے دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کو بھاری رقوم فراہم کیں۔ ناٹو میں اٹلی کو شامل کیا گیا اور اس یارِ وفادار پر اندھا اعتماد کرتے ہوئے چھٹے امریکی بحری بیڑے کا ہیڈ کوارٹر اطالوی ساحلی شہر نیپلز میں قائم کیا گیا۔ جبکہ اطالوی عدلیہ نے امریکہ کے تاریخی لگاؤ اور محبت کا صلہ سی آئی اے کے تئیس ایجنٹوں کو سزا سنا کر دیا۔


    اٹلی سے تو کہیں اچھا پاکستان ہے جس نے نہ صرف امریکہ کو یکطرفہ طور پر اڈے دیے، سرد جنگ میں سرخوں کے خلاف امریکہ کا رضاکارانہ اتحادی بنا۔ افغان جنگ میں روس کو شکست دینے کے لیے سی آئی اے کے لیے نہ صرف اپنے گھر کے دروازے بلکہ کھڑکیاں اور روشن دان تک کھول دیے۔ امریکہ نے جتنی بھی امداد دی اسے صبر شکر کے ساتھ دعا دیتے ہوئےقبول کرلیا۔ رمزی یوسف سے ایمل کانسی تک اور افغان سفیر ملا ضعیف سے عافیہ صدیقی تک امریکہ نے جس جس پاکستانی یا غیر پاکستانی کو مجرم جانا اسے نمک خواروں نے خود اغوا کر کے منہ پر نقاب پہنا، ڈنڈا ڈولی کر جہاز پر چڑھایا۔ سینکڑوں لوگوں کو غائب کروا دیا گیا۔ بلکہ یہاں تک اہتمام کیا کہ کوئی پاکستانی ادارہ یا عدالت کسی مغربی پر بالعموم اور امریکی پر بالخصوص ہاتھ نہ ڈالے چاہے وہ بلا اجازت پاکستان کے کسی بھی حصے میں جاکر کسی بھی سیاسی و غیر سیاسی شخص سے ملے یا حساس مقامات کی تصاویر بنائے یا سادہ کپڑوں میں پاکستان کی سڑکوں پر اسلحہ لے کر دندنائے ۔


    اگر کسی سرپھرے نے اسٹیبلشمنٹ کی توجہ اس جانب لانے کی کوشش بھی کی تو انشا جی کے شعر میں (تھوڑا سا تصرف کرتے ہوئے) یہ کہہ کر سمجھا دیا گیا


    یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں، جو لوگوں نے پھیلائی ہیں​
    تم 'امریکہ' کا نام نہ لو، کیا 'امریکی' سودائی ہیں!

    BBC Urdu - بی بی سی اردو بلاگ - 'کیا امریکی سودائی ہیں'

    - - Updated - -


    وہ امریکہ یہ امریکہ



    وسعت اللہ خان | 2007-02-01 ،15:21


    سن اسی کی دھائی میں جب میں کراچی یونیورسٹی کا طالبِ علم تھا تو ہفتے میں دو، تین روز ہمارے گروپ کا یہ معمول تھا کہ امریکن قونصلیٹ کی یو ایس آئی ایس لائبریری میں جاتے جہاں واحد مسلح سپاہی وہ نوجوان امریکن میرین تھا جو ایک خوبصورت پتلے کی طرح شوکیس نما سٹینڈ میں ساکت کھڑا رہتا تھا۔

    لائبریری میں داخلے کے لیے صرف ایک کارڈ دکھانا پڑتا تھا۔ اس کے بیرونی لان میں آئے دن کتابوں کی کوئی نہ کوئی نمائش لگتی رہتی تھی۔ سنگِ مرمر کی منڈیروں والے تالاب کے اندر موجود فوارہ چوبیس گھنٹے چلتا تھا۔ ان منڈیروں پر دو تین ایسے جوڑے بیٹھتے تھے جو گھر والوں سے ’کمبائینڈ اسٹڈی‘ کا کہہ کر آتے تھے اور پھر انہی منڈیروں پر فوارے کی پھوار میں بھیگ کر دل لگا کر پڑھتے تھے۔ لائبریری کے اندر ایسی عالمانہ خاموشی ہوتی تھی کہ میر کا یہ مصرعہ یاد آتا تھا


    ’لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام‘


    لیکن اب یہی امریکن قونصلیٹ فصیلوں میں چھپا ہوا ہے۔ ان فصیلوں کے باہر بڑے بڑے کنکریٹ بلاک اور چاروں اطراف پولیس اور رینجرز کی چوکیاں اور ہمہ وقت پولیس کی بکتربند گاڑی موجود ہے۔ جس شاہراہ پر یہ قونصلیٹ قائم ہے اس پر پیدل چلنے کی اجازت نہیں ہے۔ ٹیکسی، سوزوکی، ہائی روف اور بھاری گاڑیوں کا داخلہ ممنوع ہے۔ جبکہ ایک اور قریبی سڑک جس پر امریکی کونسل جنرل کی رہائش گاہ ہے اس پر اگر سندھ کا گورنر یا وزیرِ اعلی بھی چاہے تو پیشگی اطلاع کے بغیر نہیں چل سکتا۔گویا یہ دونوں شاہراہیں بظاہر کراچی میں ہیں مگر عملاً ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا حصہ ہیں۔​


    ایسا ماحول تو نیویارک کی اس شاہراہ پر بھی نہیں ہے جہاں ورلڈ ٹریڈ ٹاورز کا وجود ہوا کرتا تھا۔ جہاز وہاں ٹکرائے، ملبہ کراچی سمیت پوری دنیا پر گرا۔

    BBC Urdu - بی بی سی اردو بلاگ - وہ امریکہ یہ امریکہ
     
  11. benice

    benice Well-Known Member Siasi Karkun

    Joined:
    Jan 2, 2010
    Messages:
    6,553
    Likes Received:
    41
    Location:
    Karachi

    امریکا کو پکڑنا مشکل نہیں ناممکن ہے



    مشکل یہ ہے کہ پنجابی میں جسے ’’ بیستی ‘‘ کہتے ہیں وہ صرف کمزور کی ہوتی ہے۔طاقتور کی ’’ بیستی‘‘ کو تنقید کہہ کر اس کی شدت کم کردی جاتی ہے۔ورنہ تو شائد ہی کوئی دن جاتا ہو کہ جب امریکا پر دنیا کے کسی نہ کسی کونے سے ’’ تنقید ’’ نہ ہوتی ہو۔ایسی تنقید یا بیستی کرنے والوں کے لیے امریکی اسٹیبلشمنٹ بس یہ جملہ کہہ کے سیٹی بجاتی آگے بڑھ جاتی ہے کہ یہ وہ حاسد ہیں جو امریکا کے گلوبل اثرو رسوخ سے جلتے ہیں۔اس جملے کا ٹرک ڈرائیوری زبان میں یہ اردو ترجمہ بنے گا کہ محنت کر حسد نہ کر ، جلنے والے کا منہ کالا ، پاس کر یا برداشت کر وغیرہ وغیرہ۔
    جیسے فلسطین اسرائیل تنازعہ ، جیسے گوانتانامو ، جیسے عالمی ماحولیات ، جیسے ڈرون حملے ، جیسے عراق و افغانستان، جیسے نیو اکنامک ورلڈ آرڈر ، جیسے…کچھ بھی…اس میں کاہے کی بیستی۔
    آپ بخوشی امریکا یا اس کے رویے پر تنقید کرسکتے ہیں یا جل بھن سکتے ہیں لیکن دشمنوں یا دوستوں کی بیستی کرنے کا حق صرف امریکی اسٹیبلشمنٹ کو حاصل ہے۔اس بارے میں پاکستان کی بابت امریکی اسٹیبلشمنٹ کے تاریخی اور موجودہ رویے کا حوالہ بار بار دینا اچھا نہیں لگتا۔اب تو اس حوالے سے قارئین بھی شدید بور ہوجاتے ہیں۔لہذا بات کرتے ہیں دیگر مثالوں کی۔
    جیسے اسی کی دھائی میں جب ایک اسرائیلی جاسوس جوناتھن پولارڈ امریکا کے صنعتی راز چراتے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا تھا تو ریگن انتظامیہ کئی دن تک ہمارے محلے کی تائی حمیداں کی طرح ہاتھ پھیلا پھیلا کر اسرائیل کو کوسنے دیتی رہی۔ ’’ شرم نہیں آتی ان کو۔جس تھالی میں کھاتے ہیں اسی میں چھید کرتے ہیں۔۔جو انھیں دودھ پلائے اسی کو ڈستے ہیں۔جہاں موقع ملتا ہے محسن کشی سے باز نہیں آتے۔کتنا پال پوس کے بڑا کیا اور اپنے ہی گھر میں چوری کرلی۔آنکھوں کی شرم مرگئی ہے۔دیدے میں پانی تک نہیں رہا۔تم ہمارے صنعتی راز جاننے کے لیے اتنے ہی مرے جارہے تھے تو ہم سے ویسے ہی مانگ لیتے۔ کیا پہلے کچھ دینے سے انکار کیا ہے۔مگر تمہیں تو حرام کھانے کی عادت پڑ چکی ہے۔بے غیرتی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ حرامزادے کہیں کے۔ہن اے پھڑ ڈوڑھ سو ایف سولہ تے دفع ہوجا میریاں نظراں تو…‘‘۔
    جیسے چین کو امریکی اسٹیبشملنٹ چوبیس گھنٹے اٹھتے بیٹھتے طعنے دیتی رہتی ہے کہ تم تو ہو ہی نقالوں کی قوم۔اپنا تمہارا اوریجنل کیا ہے۔ساری دو نمبر چیزیں تمہارے ہاں بنتی ہیں اور وہ بھی ہمارے صنعتی و اقتصادی رازوں اور ڈیزائنوں کی جاسوسی کرکے۔اور پھر وہی چیزیں تم ہم سمیت پوری دنیا کو دھڑلے سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بیچ رہے ہو۔کاپی رائٹس کے قوانین کی تم نے ایسی تیسی کررکھی ہے۔ دنیا جہان کا سافٹ وئیر ، ڈی وی ڈیز ، حتی کہ میزائلوں کا ڈیزائن تک تم نے چرانے کے لیے ہمارے ہاں بندے چھوڑ رکھے ہیں اور پھر یہ دعویٰ بھی سینہ ٹھونک کے کرتے ہو کہ ہم دو ہزار پچاس تک امریکا کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی عظیم طاقت بن جائیں گے۔اول تو ایسا میں ہونے نہیں دوں گا بچو۔اور خدانخواستہ میرے منہ میں خاک اگر ایسا ہو بھی گیا تب بھی تم ایک نقال دو نمبر سپر پاور ہی کہلاؤ گے۔بغیر کاپی رائٹس کی سپر پاور ہا ہا ہا ہا…پھر بھی ہمارا جگرا دیکھو کہ ہم اپنی منڈی میں سالانہ تمہیں سو بلین ڈالر سے زیادہ کا مال بیچنے دے رہے ہیں۔تمہارے ٹریلین ڈالرز کے امریکی ریزرو بانڈز خریدنے پر بھی ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ہم سپر پاور ہیں تو ہمارا دل بھی بڑا ہے۔مگر ایسی لطیف باتیں تم جیسے چنی آنکھوں والے اسپاٹ چہروں والوں کو سمجھ میں نہیں آسکتیں۔
    روس تو رہا ایک طرف۔ امریکا تو یورپ کی نقد بیستی سے بھی نہیں چوکتا۔ آ بھئی نواب صاحب…رسی جل گئی بل نہ گیا۔دوسری عالمی جنگ میں ہم اگر نہ کودتے تو ہٹلر نے تو تمہیں کھا پی کے ڈکار بھی نہیں لینی تھی۔تمہیں ادھار پر اسلحہ دیا ، فوجی دیے اور جنگ کے بعد مارشل پلان کے ذریعے خزانوں کے منہ کھول دیے۔سوویت ریچھ کے پنجوں سے بچانے کے لیے ناٹو کے ذریعے تمہارے سروں پر جوہری و عسکری چھتری تان دی ورنہ تمہارے پاس بچا کیا تھا۔ہم اور ہمارا پیسہ اور ہماری فوجی طاقت نہ ہوتی تو تمہاری اوقات کیا رہ گئی تھی۔زیادہ سے زیادہ ٹھنڈے علاقے کے انگولا، موزمبیق یا نائجیریا کہلاتے اور بہت ہی تیر چلاتے تو برازیل کے برابر ترقی کرلیتے۔لیکن وہ تمہاری اکڑ۔آج ہمیں ہی خاطر میں نہیں لاتے۔کسی نے سچ کہا ہے کہ نواب تے نواب ہی ہوندے نیں…
    اور تو اور جن ہمسائیوں کی دیواریں امریکا سے ملی ہیں، ان تک کو مستقل امریکا کی باتیں سننی پڑتی ہیں۔جیسے بے چارا میکسیکو،ایک تو ہمسایہ اوپر سے غریب،لاکھوں میکسیکن تلاشِ روزگار میں اپنے امیر ہمسائے کے ہاں کام کررہے ہیں اور امریکی صنعتی و زرعی انجن کو سستی لیبر کا ایندھن دے رہے ہیں۔لیکن امریکا اسے بھی چیرٹی سمجھتا ہے اور گاہے بگاہے اپنے ہمسائے کو جتاتا رہتا ہے کہ کبھی خود بھی کچھ کر لو کب تک ہمارے ہی ٹکڑوں پر پلتے رہو گے۔شکر ہے دوسرے ہمسائے کینیڈا سے اتنی شکایات نہیں ہیں۔کیونکہ کینیڈا سے تعلقات ہر طرح سے منافع بخش ہیں۔امریکی ملٹی نیشنل کمپنیاں کینیڈا کے اندر خوش ہیں اور کینیڈا کے پاس اپنے دانے بھی بہتیرے ہیں۔ورنہ اسے بھی امریکا کی نظر میں میکسیکو بنتے دیر نہیں لگنی تھی۔​
    لیکن خود امریکا بذاتِ خود اور بزعمِ خود ہر طرح کی تنقید اور بیستی سے بالاتر اور بقول اوباما امریکی طرزِ زندگی ناقابلِ تسخیر ہے۔
    اگر آپ اسے کہیں کہ تم کیسی جعلی سپر پاور ہو ویتنام سے دم دبا کر بھاگ نکلے تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ تو اسٹرٹیجک ریٹریریٹ ( حکمت ِ عملی کے تحت پسپائی ) تھی۔آپ جاہل ہیں آپ یہ بات نہیں سمجھیں گے۔
    اگر آپ امریکا کی یہ کہہ کے بیستی کرنے کی کوشش کریں کہ ایک کاسترو تو تم سے پچھلے ساٹھ سال میں سنبھالا نہیں گیا اور باتیں کرتے ہو تم چاند اور مریخ کی۔تو اس کا بھی بڑا خوبصورت جواب ہے کہ امریکا جیسی سپر پاور کے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ کیوبا جیسے مچھروں پر توجہ دے۔شروع میں ہم نے اسے سیریسلی لیا تھا پھر سمجھ گئے کہ بابا جی کو اپنے حال میں مست رہنے دو۔البتہ بطور ضمانت ہم نے کیوبا کا ایک حصہ گوانتانامو اپنے پاس ضرور رکھا تاکہ اگر بابا جی پگلائیں تو انھیں فوراً ٹھیک کیا جاسکے۔آج کل گوانتانامو میں یہی کام ہورہا ہے مگر یہ دوسری طرح کے پاگل ٹھیک کیے جارہے ہیں۔
    اور اسرائیل کے معاملے پر اگر آپ پھبتی کسیں تو امریکا کے پاس ترنت جواب ہے کہ اس کا وجود مشرقِ وسطیٰ میں مغربی تہذیب کی آخری چوکی کے طور پر عسکری علاقائی توازن قائم کرنے کے لیے ضروری ہے۔ورنہ عرب اگر اسرائیل کے خلاف نہیں ہوں گے تو ایک دوسرے کا گلا کاٹیں گے۔بلکہ وہ تو اسرائیل کی موجودگی میں بھی اس کام سے باز نہیں آرہے لہذا اسرائیل کے ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
    اگر آپ کہیں کہ افغانستان اور عراق میں اتنے آدمی مرگئے تو امریکی اسٹیبلشمنٹ کہتی ہے کہ وہ تو کولیٹرل ڈیمیج ( مجموعی نقصان ) ہے جانی نقصان تھوڑی ہے۔جنگوں میں تو ایسا ہی ہوتا ہے۔
    اگر آپ کہیں کہ اب تو کئی عالمی تنظیمیں اور ممالک ڈرون حملوں کو جنگی جرائم سمجھتے ہیں اور اقوامِ متحدہ کو بھی اس کی قانونی حیثیت پر تحفظات ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ اپنے دفاع کے لیے پیشگی کارروائی حلال اور جائز ہے، جسٹ شٹ اپ…آپ ہمارے ساتھ ہیں یا دہشت گردوں کے ساتھ ؟؟؟
    جب وکی لیکس سامنے آئیں اور اس کے بعد ایڈورڈ سنوڈن نے دنیا بھر کی مواصلات ریکارڈ کرنے اور سننے کا امریکی بھانڈا پھوڑا تو ایسا محسوس ہوا کہ امریکا کو پہلی بار عالمی سطح پر اپنی ’’ بیستی ’’ شائد شدت سے محسوس ہو۔لیکن امریکا تو پھر امریکا ہے۔ پہلے تو اس نے وکی لیکس سامنے لانے والے جولین اسانچیز اور پھر ایڈورڈ سنوڈن کو اشتہاری مجرم قرار دیا۔حالانکہ اتحادی اور دوست ممالک چیخ رہے ہیں کہ ان کے سربراہانِ مملکت و حکومت کے ٹیلی فون برسوں سے ٹیپ کرنا صریحاً امریکی بددیانتی ہے۔القاعدہ ، طالبان ، تیسری دنیا کی حکومتوں ، روس اور چین کے رہنماؤں کی فون ٹیپنگ اور ذاتی جاسوسی تو سمجھ میں آتی ہے لیکن انتہائی قریبی اتحادی یورو گوئے اور برازیل کے صدور حتیٰ کہ جرمن چانسلر اینگلا مرکل کا موبائل فون بھی امریکی ہوم لینڈ سیکیورٹی والے تب سے آخر کیوں سن رہے ہیں جب وہ چانسلر بھی نہیں بنی تھیں۔
    اس اسکینڈل پر مجال ہے جو امریکی ماتھے پر ایک قطرہِ انفعال تک آیا ہو۔یوروگوئے کے صدر صرف غصہ پی کے رہ گئے۔برازیل کی صدر نے اپنا دورہِ امریکا منسوخ کردیا۔امریکا نے اس دورے کی منسوخی پر تو افسوس کا اظہار کیا لیکن فون ٹیپنگ کے معاملے کو سرے سے ہی گول کرگیا۔اینگلا مرکل نے اس معاملے کی باضابطہ وضاحت مانگی ہے۔ مگر امریکا کی وضاحت ہمارے علاقے کے تھانے کے ایس ایچ او کی وضاحت سے ملتی جلتی ہے۔’’ وسعت صاحب یقین کرو اللہ نوں جان دینی اے۔اے چھاپہ میں نئیں ماریا۔اے اس کمینے حوالدار شفیق دا کم اے۔مینوں تے چھاپہ مارن دے بعد وی ایس گھٹیا انسان نے کج نہئیں دسیا۔مگر تسی فکر نا کرو میں اینہوں معطل کرا کے چھڈاں گا ‘‘
    امریکی اہلکاروں کا کہنا کہ صدر اوباما جرمن چانسلر کے فون ٹیپ کرنے کے اسکینڈل سے لا علم تھے۔لہٰذا یورپی یونین ، جرمن چانسلر اور دیگر عالمی رہنماؤں کا ردِعمل تنقید کے زمرے میں تو آتا ہے۔ بیستی کے زمرے میں نہیں۔​
    مگر ہماری بے بسی دیکھیں کہ ہم تو یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ بیستی تو عزت داروں کی ہوتی ہے۔آخر ہمیں بھی کچھ دن اور اسی دنیا میں رہنا ہے۔

    امریکا کو پکڑنا مشکل نہیں ناممکن ہے – ایکسپریسس اردو
    امریکا کو پکڑنا مشکل نہیں ناممکن ہے – ایکسپریسس اردو
     
  12. benice

    benice Well-Known Member Siasi Karkun

    Joined:
    Jan 2, 2010
    Messages:
    6,553
    Likes Received:
    41
    Location:
    Karachi
  13. fawad

    fawad Member Siasi Karkun

    Joined:
    Mar 31, 2008
    Messages:
    681
    Likes Received:
    0



    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    [​IMG]



    امریکی سفارتخانہ کی جانب سے‘‘آن لائن جرنلزم ریسورسز’’ کیلئے تربیتی نشست کا اہتمام


    اسلام آباد(۱۷ ِاپریل ، ۲۰۱۴ء)__ امریکی سفارتخانہ نے رپورٹروں اور سب ایڈیٹروں سمیت کارکن صحافیوں کی پیشہ ورانہ مہارت میں اضافہ کیلئے امریکہ میں واقع بلاقیمت اطلاعاتی ذرائع اور مواد سے متعلق تازہ معلومات فراہم کرنے کیلئے اسلام آباد میں ایک تربیتی نشست کا اہتمام کیا۔ امریکی سفارتخانہ کی ترجمان میگن گریگونس نے شرکاء کا خیرمقدم کیا اور صحافیوں کی رپورٹنگ کرنے کی مہارتوں کو بہتر بناکر اپنی ملازمت کو پیشہ ورانہ نفاست کے ساتھ سرانجام دینے کے سلسلے میں آن لائن ذرائع کی قدروقیمت پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے
    منصفانہ اور صحیح رپورٹنگ کی اہمیت پر بھی زوردیا۔

    تربیتی نشست کے دوران صحافیوں کو آن لائن مواد کے بارے میں آگاہ کیا گیا جو پس منظر سے متعلق معلومات کی تحقیق تلاش کرنےاور عالمی مسائل کو درست سیاق وسباق میں ترتیب دینےمیں مدد دیتے ہیں۔ شرکاء کو ای لائبریری یوایس اے کے بارے میں جاننے کا موقع بھی ملا جو امریکی محکمہ خارجہ کے زیر اہتمام پاکستان اور دیگر منتخب ملکوں کے طالب علموں، صحافیوں، اساتذہ، لائبریرینز اور محققین کو مفت خدمات فراہم کرنے کا ذریعہ ہے۔ یہ ذریعہ صارفین کوہزاروں کتب، جرائد،اخبارات،رپورٹوں اور دستاویزات تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ اس ورکشاپ میں حکومت امریکہ کی اہم ویب سائیٹس کا احاطہ کیاگیا جو خارجہ پالیسی اوراس سے متعلقہ امور حوالے سے سرکاری معلومات مہیا کرتی ہیں اور اس میں صحافیانہ اخلاقیات پر مباحثہ بھی شامل تھا۔اس نشست کا اہتمام امریکی سفارتخانہ کے انفارمیشن ریسورس سینٹر نے کیا تھا جو صحافیوں ، معلمین اور امریکہ کے بارے میں مزید جاننے یا حوالہ جات کیلئے امریکی مواد تک رسائی حاصل کرنےمیں دلچسپی رکھنے والے لوگوں کو معلومات کی فراہمی کا ذریعہ ہے۔

    اختتامی نشست میں سفارتخانہ کی ترجمان میگن گریگونس نےرپورٹنگ کو بہتر بنانے کیلئے مفت دستیاب ذرائع سے بھرپور استفادہ کرنے کیلئے صحافیوں کی حوصلہ افزائی کی۔ انھوں نے کہا کہ ان ذرائع سے صحافیوں کو معلومات کے متعدد منابع، حقائق اور اعدادوشمار کی تصدیق کرنےاور اپنی خبروں کی سند کی پڑتال کرنے میں مدد ملتی ہے کیونکہ وہ پاکستان کی عوام تک اہم خبریں پہنچاتے ہیں۔

    انفارمیشن ریسورس سینٹرتحقیق کیلئے خدمات فراہم کرنے کے علاوہ لنکن کارنر پروگرام کا انتظام وانصرام بھی چلاتا ہے جو پاکستانی عوام کو امریکی ثقافت، اقدار،حکومت اور معاشرے سے متعلق معلومات تک رسائی فراہم کرتے ہیں۔لنکن کارنرزپاکستانی عوام کو آن لائن اعداد وشمار ایسے ذرائع اور کتب، رسائل اور معلوماتی ویڈیو سمیت حوالے کیلئے مواد مہیا کرتے ہیں ۔


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu
     
  14. fawad

    fawad Member Siasi Karkun

    Joined:
    Mar 31, 2008
    Messages:
    681
    Likes Received:
    0

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    میں يہ واضح کر دوں کہ امريکی حکومت نے افغانستان اور پاکستان سميت کسی بھی ملک کو 911 کے حادثے کے لیے مورد الزام نہیں ٹھہرايا تھا۔ اس جرم کا ذمہ اسامہ بن لادن اور ان کی تنظيم کے سر ہے۔ حقيقت يہ ہے کہ امريکہ نے قريب دس برس سے جاری دہشت گردی کے خاتمے کی کوششوں ميں ہميشہ پاکستان کو اہم ترين اتحادی قرار ديا ہے۔

    جب آپ اس بات کی نشاندہی کرتے ہيں کہ 911 کے واقعے میں کوئ پاکستانی ملوث نہيں تھا تو آپ اس حقيقت کو نظرانداز کر ديتے ہیں کہ اس واقعے کے سب سے اہم منصوبہ ساز خالد شيخ محمد کو مارچ 1 2003 کو پاکستانی آئ – ايس – آئ نے راولپنڈی سے گرفتار کيا تھا۔

    گزشتہ 20 برسوں کے دوران خالد شيخ محمد کے اپنے اقبالی بيانات اور تحقیقاتی رپورٹوں کے مطابق دہشت گردی کے بے شمار منصوبوں میں ان کا ہاتھ تھا جن ميں 1993 کے ورلڈ ٹريڈ سينٹر پر حملہ، آپريشن بوينکا پلاٹ، سال 2002 ميں لاس اينجلس کے بنک ٹاور پر حملے کا منصوبہ، بالی کے نائٹ کلبوں پر حملہ، امريکی فلائٹ 63 کو تباہ کرنے کی ناکام کوشش، ميلينيم پلاٹ اور ڈينيل پرل کا قتل شامل ہيں۔

    خالد شيخ محمد پاکستان ميں گرفتار ہونے والا القائدہ کا واحد سرکردہ ليڈر نہيں تھا۔ سال 2001 سے اب تک القائدہ کے قريب 500 اہم ليڈر پاکستان ميں گرفتار کيے جا چکے ہيں۔ اس کے علاوہ حکومت پاکستان نے گزشتہ 8 برسوں کے دوران سينکڑوں کی تعداد ميں طالبان کے ليڈروں کو بھی گرفتار کيا ہے۔ يہ بھی ياد رہے کہ پاکستان ميں القائدہ نے بے شمار حملے کيے ہیں اور مستقبل کے لیے بھی مزيد حملوں کے حوالے سے اپنے ارادے واضح کر ديے ہیں۔
    يہ پاکستان اور امريکی حکام کی مشترکہ کوششوں اور آپريشنز ہی کا نتيجہ ہے کہ آج القائدہ کی تمام تر توجہ اپنے وجود کے دفاع پر مرکوز ہے۔


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov


     
  15. angleena@aol.com

    angleena@aol.com Active Member Siasi Karkun

    Joined:
    Mar 22, 2010
    Messages:
    1,520
    Likes Received:
    4
    Location:
    North A. Side
    As usual, You have Linked Khalid Sheikh Muhammad with Pakistan, Infect you have not explained Khalid Sheikh Muhammad Linked and deep rooted relationship to USA, and ARAB world as well, I can still assure that people you are mentioning here that they are Pakistanis and on which the whole Great nation of Pakistan is being Judged and treated unfairly for the last 12 years, 180 Millions Pakistanis are all friendly career oriented enlightened people. They know the civilization and its important. However, 180 Million people were attached by USA media to 2 Million Biased/Fundamentalist Group, We were treated Like that and attached to Minority Cult group, LET ME ASK YOU IS IT FAIR???, IS IT FAIR THAT IF I ATTACHED THE "ADAM LANGA" to whole American nation or vice versa? Adam Langa killed 27 Kids, Was he True American?
    Now the second part is , as I mentioned earlier that Pakistan is still dealing with American hysteria Cold war Era, USA became super power by defeating its counter Part in Afghanistan with the help of ""Mujahideen"" who employed by some ARAB ""wahabi"" mentality, as soon as USA won they pack their bags and left every weapon and warriors on our door step, with 12 Millions Refuge inside Pakistan, these Afghanis took Pakistani nationality and became Pakistani, infect they are not Pakistanis, they travelled to the world on Pakistani Passports and all mentioned above people who captured or kill in Pakistan are those who hired by ""Mujahideen"" but later became the part of Terrorist organisations Like "" Al-qaeeda "" Now you are trying to link those so called Pakistani to Pakistan's ideology?? Shame on you, Now let me tell you the whole history of Khalid sheikh Muhammad, He is also the production of USA 's Muslim Hate Policies Influenced or fueled by ""ISRAEL AMD INDIA"", I will discuss the rest later, let Read who is Khalid sheikh Muhammad, where his terrorist mentality came from, Why when, weher, and How he started, without just mentioning Pakistan's name lets mention How and why???

    Khalid Sheikh Mohammed was born on 14 April 1965 (or 1 March 1964) in Balochistan, Pakistan. However, BBC News and others have reported his place of birth as Kuwait City, Kuwait It is believed that he belongs to the Baloch ethnic group and is fluent in Arabic, English, Urdu and Balochi Khalid Mohammad grew up and spent his formative years in Kuwait, as did his nephew Ramzi Yousef (three years his junior and the son of Mohammed's older sister).
    According to U.S. federal documents, in 1982 he had heard Abdul Rasul Sayyaf's speech in which a call for jihad against the Soviets was declared.At age sixteen, he joined the Muslim Brotherhood. After graduating from high school in 1983, Mohammad travelled to the United States and enrolled in Chowan College in Murfreesboro, North Carolina. He later transferred to North Carolina Agricultural and Technical State University and received a (BSc) in mechanical engineering in 1986.
    The following year he went to Peshawar, Pakistan,where he and his brothers, including Zahed, joined the mujahideen forces. He attended the Sada training camp run by Sheikh Abdallah Azzam, and after that he worked for the magazine al-Bunyan al-Marsous, produced by Sayyaf's rebel group. In 1992, he received a master's degree in Islamic Culture and History from Punjab University in Pakistan.By 1993, Mohammad had married and moved his family to QATAR, where he took a position as project engineer with the Qatari Ministry of Electricity and Water. He began to travel to different countries from that time onward.
    The United States 9/11 Commission Report notes that, "By his own account, KSM's animus toward the United States stemmed not from his experiences there as a student, but rather from his violent disagreement with U.S. foreign policy favoring Israel."However, on August 29, 2009, The Washington Post reported from US intelligence sources that Mohammed's time in the U.S. contributed to his becoming a terrorist.
    "KSM's limited and negative experience in the United States — which included a brief jail stay because of unpaid bills — almost certainly helped propel him on his path to becoming a terrorist," according to this intelligence summary. "He stated that his contact with Americans, while minimal, confirmed his view that the United States was a debauched and racist country.
    NOW YOU GOT IT WHO WAS KSM, AND WHY HE DID, IT ABOVE ALL REPORTS ARE PUBLISHED IN USA MEDIA , ITS NOT MY POINT OF VIEW, BUT BEHIND THE KSM 'S TERRORIST ORGANIZATION, USA AND ARAB MENTALITY IS VERY OBVIOUS AND CLEAR IN HIS ACTION, PLEASE OWN SOME RESPONSIBILITY ON YOUR SHOULDER TOO MR USA !!!





     
  16. __QanOOn__

    __QanOOn__ ♡♥♡PTI♡♥♡

    Joined:
    Dec 26, 2011
    Messages:
    13,491
    Likes Received:
    5
    Location:
    __PeshawaR__
    ہاں یاد آیا، عزت مآب جارج بُش صاحب نے بھی تو صلیبی جنگ کا آغاز کر کے مسلمانوں کو بلعموم اور پاکستان، افغانستان کو بلخصوص ایک بہت ہی بٹرا تحفہ دیا تھا جس کو ہم آج تک چاٹ رہے ہیں۔۔۔
     
  17. fawad

    fawad Member Siasi Karkun

    Joined:
    Mar 31, 2008
    Messages:
    681
    Likes Received:
    0


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    ميں نے پہلے بھی واضح کيا تھا کہ ملزم کے خلاف چارج شيٹ اور تفتيشی عمل کا اس کی شہريت اور مذہب سے کوئ تعلق نہيں ہے۔ امريکی حکومت کی توجہ اور تمام تر کوششوں کا مرکز ان افراد کی گرفتاری اور دہشت گردی کے ان اڈوں کا قلع قمع کرنا ہے جہاں اس سوچ کی ترويج وتشہير کی جاتی ہے کہ دانستہ بے گناہ افراد کی ہلاکت جائز ہے۔

    ريکارڈ کی درستگی کے ليے واضح کر دوں کہ امريکہ کو مطلوب القائدہ کے اہم ترين ليڈر ايک امريکی شہری ايڈم پرلمين ہيں جو "عزام دا امريکن" کے نام سے بھی جانے جاتے ہيں۔ يہ ايک طے شدہ حقيقت ہے کہ وہ افغانستان ميں القائدہ تنظيم کے ساتھ کام کر رہے ہيں۔ امريکی حکومت ان کی امريکی شہريت سے قطع نظر ان کی گرفتاری اور ان کو قانون کے کٹہرے ميں لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔

    کچھ دوستوں نے پاکستان ميں گرفتار ہونے والے 5 امريکی شہريوں کا بھی حوالہ ديا ہے۔ اس ضمن ميں بھی امريکی حکومت پاکستان کے تفتيشی اداروں اور عہديداروں کو ہر ممکن تعاون اور سپورٹ فراہم کر رہی ہے۔ اس ايشو کے حوالے سے امريکی حکومت کی پاليسی بالکل واضح ہے۔ ہر وہ شخص جس کے دہشت گرد گروپوں کے ساتھ تعلقات ہيں، انھيں انصاف کے کٹہرے ميں لايا جانا چاہيے۔ جب کسی کے اوپر جرم ثابت ہو جاۓ تو پھر اس کی شہريت، مذہبی وابستگی اور سياسی نظريات کا اس کے جرائم اور اس کی سزا سے کوئ تعلق نہيں رہ جاتا۔

    يہ درست ہے کہ 911 کے واقعات ميں ملوث افراد افغان شہری نہيں تھے۔ ليکن يہ بھی ايک ناقابل ترديد حقيقت ہے کہ جن افراد نے دہشت گردی کے اس واقعے ميں حصہ ليا تھا ان کی تربيت افغانستان ميں موجود القائدہ کے ٹرينيگ کيمپس ميں کی گئ تھی۔ افغانستان کے خلاف فوجی کاروائ کا فيصلہ اسی وقت کيا گيا تھا جب اس وقت کی طالبان حکومت نے ان دہشت گردوں کے خلاف کاروائ کرنے سے انکار کر ديا تھا۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu
     
  18. angleena@aol.com

    angleena@aol.com Active Member Siasi Karkun

    Joined:
    Mar 22, 2010
    Messages:
    1,520
    Likes Received:
    4
    Location:
    North A. Side
    Thanks for a quick response, My point is here that USA 's policy against Muslim world is very Biased, It is not carefully drafted by some Racist, it is a duty of a Super power of the world to remain unbiased and fair in their dealing, USA is responsible to Drag a Balanced positive Nation towards fundamentalism western concept of state of denial. USA policy makers portrait Pakistan as teroorist nation, Just watch movies, read the books, and articles, they stink Pakistan 's existence, they couldn't understand the concept of Islamic democracy, a nation with Engineers, doctors, Analyst, and scientist. Pakistan's youth is the most talented , positive and career oriented in the world, But the world is associating every 'chris and harry" incident with the religion, Religion doesn't teach anyone to destroy the peace of the world or to kill innocents, it is the sickness and illness of Minds who make someone a terrorists or Mass murderer !!

    Anyways USA knows that Pakistan has given too much in this war on terror, approximately 35000 Law and order professional people's life has gone in the line duty in Pakistan, 100s of thousands effected by Terrorism attacks in Pakistan. We have faced and dealt with bigger hearts almost 400 incidents of 911 type, but our confidence never shattered or we never attacked any other country involved in our demographics. Like you said that thousands of people who captured are not Pakistanis, they are British, Americans, Afghanis, Indians and Arabs but we never Bragg about what we done. We also facing the pain and agony and in the return the world is shutting doors on our youth. Let me ask you one thing is it helping the situation or worsening the situation?? My question is still valid, do the policy makers, Media, Government somehow involved to Drag Pakistan and rest of Islam to associated with some Bunch of Sick minded individual who actually one way or the other way result of being treated unfairly by the west. In between these two forces what the heck the Real 180 Millions Pakistanis were wrong, and why we all suffered the punishment for some Bigot Mullah who Hate American's Racist policy and Love some Arab 's hypocrisy !!

    "
     
  19. fawad

    fawad Member Siasi Karkun

    Joined:
    Mar 31, 2008
    Messages:
    681
    Likes Received:
    0

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    جہاں تک امريکہ کی عالم اسلام کے خلاف جنگوں اور مبينہ غلـبے کی سازشوں کے حوالے سے جاری بحث کا تعلق ہے تو اس ضمن ميں تو ميں نے بارہا سرکاری دستاويزات اور ريکارڈ پر موجود بيانات کے ذريعے يہ واضح کيا ہے کہ ہم کسی مخصوص مذہب، ملک يا ثقافت کے خلاف ہرگز نہیں ہيں۔ ہماری مشترکہ جدوجہد اور لڑائ ان مجرموں کے خلاف ہے جو بغير کسی تفريق کے دنيا بھر ميں بے گناہ انسانوں کو قتل کر رہے ہیں۔ جو دوست امريکہ کی عالم اسلام کے خلاف سازشوں کے حوالے سے اپنے موقف پر قائم ہیں، ميرا ان سے سوال ہے کہ ايسا کونسا مقصد اور ارادہ امريکی حکومت کو اس بات پر مجبور کر سکتا ہے کہ وہ دانستہ اور سب کچھ جانتے بوجھتے ہوۓ ايک ايسے مذہب کو نشانہ بنا کر اس پر حملے شروع کر دے جس کے پيروکار دنيا بھر ميں ايک ارب سے زيادہ ہيں؟ ايک ملک کی حيثيت سے امريکہ دنيا کے ہر مسلم ملک کو دشمن قرار دے کر کيا حاصل کر سکتا ہے جبکہ دنيا بھر ميں ايسے ممالک کی تعداد پچاس سے زيادہ ہے جہاں مسلمان اکثريت ميں ہيں۔

    امريکہ کی ايک سپر پاور ملک کی حيثيت اور اس سے متعلق بحث کو الگ رکھتے ہوۓ اس حقيقت سے کوئ انکار نہيں ہے کہ دنيا کی ديگر ممتاز اقوام کی طرح امريکہ کو بھی اس بات کا قانونی حق اور اس جائز خواہش کو تقويت دينے کا اختيار ہے کہ وہ اپنی عوام کے بہتر معاشی مستقبل اور دنيا کی دیگر ترقی يافتہ اور خوشحال اقوام میں اپنا ممتاز مقام بنانے کے ليے تگ ودو اور کوشش کرے۔ ليکن ان عالمی خواہشات اور مقاصد کی تکيمل تو درحقيقت اس بات کی متقاضی ہے کہ امريکہ دنيا بھر کے ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو خوشگوار بنيادوں پر استوار کرے۔ ہم اس حقيقت سے بخوبی واقف ہیں کہ ہم اس وقت تک حقيقی ترقی نہيں کر سکتے جب تک کہ دنيا کے ديگر ممالک بھی اس عمل ميں ہمارے ساتھ شامل ہوں۔ امريکہ سميت کسی بھی ملک کے ليے يہ ممکن نہيں ہے کہ وہ تمام سياسی، سفارتی اور دفاعی ضروريات کو نظرانداز کر کے صرف مذہب کی بنياد پر خارجہ پاليسی ترتيب دے اور اور اسی بنياد پر ملکی مفاد کے فيصلے کرے۔

    علاوہ ازيں اگر امريکی حکومت 911 اور القائدہ کو، کچھ تبصرہ نگاروں کی راۓ کے مطابق محض مسلم ممالک پر حملے کے ليے جواز کے طور پر استمال کر رہی ہے تو پھر ميرا سوال يہ ہے کہ کيا وجہ ہے کہ القائدہ اور اس سوچ سے منسلک تنظیميں اپنے جرائم کو چھپانے کی کوشش میں غير مسلموں کے خلاف جہاد کے دلفريب نعرے کی آڑ میں مسلمانوں کو زيادہ نقصان پہنچا رہی ہیں۔ کيا يہ درست نہيں ہے کہ سعودی عرب سميت دنيا کے قريب تمام اہم مسلم ممالک دہشت گردی کے سدباب اور دنيا بھر میں اس عفريت سے انسانی زندگيوں کو محفوظ کرنے کے ليے ہمارے نظريات اور سوچ کے حامی ہیں۔ کيا آپ واقعی سمجھتے ہیں کہ عالمی سطح پر ايسا اتفاق راۓ، وسائل میں شراکت اور عالمی اتحاد ممکن ہو سکتا تھا اگر امريکہ دنيا بھر میں فقط مسلمان کو شکار کرنے اور انھی پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہوتا؟ ايمانداری اور دانش کے اصولوں پر اس سوچ کو پرکھيں۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu
     
  20. benice

    benice Well-Known Member Siasi Karkun

    Joined:
    Jan 2, 2010
    Messages:
    6,553
    Likes Received:
    41
    Location:
    Karachi

Share This Page